خاموشی کا شور

 رات کا آخری پہر تھا۔ اور وہ خاموش بیٹھی کھڑکی کے،اُس پار دیکھ رہی تھی، جہاں اندھیرا چاروں اطراف پھیلا ہوا تھا۔

آمنہ۔۔! ریحاب جو ابھی اُس کے کمرے میں آئی تھی اُسے یوں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی دیکھ کر آواز دینے لگی۔

اُسے اُداس سی کھڑکی کے پاس بیٹھی دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی، اُسکا موڈ ٹھیک نہیں ۔۔( اکثر جب وہ اُداس ہوتی، تو یوں ہی خاموش کھڑکی کے پاس بیٹھ جایا کرتی تھی)

کیا ہوا ہے آمنہ ؟؟؟ یہاں کیوں بیٹھی ہو۔

آمنہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔

میں تم سے پوچھ رہی ہوں کیا ہوا ہے آمنہ۔۔ ریحاب نے اسکا کندھا ہلایا۔۔

کچھ بھی نہیں، مدھم لہجے میں ریحاب کو جواب دے کر اُس نے اپنا چہرہ واپس کھڑکی کی طرف موڑ لیا تھا۔

آج پھر اُداس ہو کچھ ہوا ہے کیا۔۔؟؟ ریحاب نے اُسکے،چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا جہاں اُداسی صاف نظر آرہی تھی۔

“آمنہ نے اب کی بار بھی کوئی جواب نہیں دیا”

 کچھ پوچھ رہی ہوں میں جواب دو اب کی بار وہ سخت لہجے میں مخاطب ہوئی تھی۔

“آپی کچھ بھی نہیں ہوا،سچ میں”

ریحاب نے اسکے لہجے میں آتی نمی کو محسوس کیا تھا۔

خود تک باتیں رکھنے والی تمھاری عادت ابھی تک نہیں گئی ریحاب نے اُداس لہجے میں کہا۔

آپی لوگوں کو بتا کر ملنا بھی تو کچھ نہیں سِوائے مایوسی کے اُس نے حد سے زیادہ تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

مجھے تو بتا سکتی ہو نا، وہ اِصرار کرتی ہوئی بولی۔

آج جب میں کالج گٸی تھی تو سامنے سے کچھ دوست نظر آئے میں اُن کے قریب پہنچی تو آپی یہ باتیں سننے کو ملیں کہ آمنہ مغرور ہو گئی ہے، کسی سے ہنس کر بات بھی نہیں کرتی، پر نکل آئے ہیں اِس کے، بدل گئی ہے اور بھی بہت سی ایسی باتیں سننے کو ملیں، جس سے میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچی، وہ ریحاب کی طرف اُداسی سے دیکھتی ہوئی بولی۔

همم۔۔ تو تم نظر انداز کیا کرو، بچے ایسی باتیں دل پہ مت لگائے رکھو، اِس سے بس تکلیف ہی ملتی رہے گی۔ رہی بات لوگوں کی،” وہ تھوڑی ہمارے حالات سے واقف ہوتے ہیں وہ تو وہی بولتے جو اُنھیں نظر آتا ہے۔ جتنا لوگوں کو نظر انداز کرو گی، تکلیف سے اُتنا ہی بچو گی۔

نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن کر نہیں پاتی ایک ہی بات بار بار سننے کو جب ملتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے،اُس کی لہجے میں بے بسی در آئی تھی۔

تمھیں کیا لگتا ہے تم مغرور ہو گئی ہو۔۔؟؟؟ ریحاب سوالیہ نظروں سے آمنہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔

آپی، آپ بہتر جانتی ہیں میں مغرور نہیں اُکتا گئی ہوں میری زندگی کے مسئلوں نے مجھے ایسا بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے اب مجھے اِس فانی دنیا سے ڈر لگتا ہے لوگوں کے پاس بیٹھنے سے یہ لوگ تکلیف دیتے ہیں اپنی باتوں سے میرا دل زخمی کر دیتے اِسی لیے دور رہتی ہوں،اِسی لیے خاموش رہتی ہوں مجھے پتا ہے یہ لوگ کل میرے نہیں رہیں گے اِسی لیے آج خود کو خود ہی اِن سے الگ کر دیتی ہوں۔

مجھے پتا ہے یہ دنیا فانی ہے۔ اسی لیے اُس کے لوگوں سے دل نہیں لگاتی میں، بس اب میرا دل کرتا ہے اللّه سے دوستی کروں اپنے رب سے باتیں کیا کروں لوگوں سے نہیں۔اُس کے لہجے میں دنیا جہن کی تھکاوٹ تھی ۔۔۔”ریحاب کو وہ اُس وقت بہت معصوم لگی” اُسکی بھیگی پلکیں ریحاب کو تکلیف میں مبتلا کر رہی تھیں۔

 صحیح کہا، یہ دنیا اور اِس کے لوگ اِس کی چیزیں سب فانی ہیں۔

لیکن پھر بھی انسان کو برداشت کرنا چاہیے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے لوگوں کا کام ہی بولنا ہے اور ہمارا کام اُنھیں نظر انداز کرنا ہوتا ہے اگر اُن کی باتوں میں آ گئے تو ہم سے زندگی بسر کرنا ہی مشکل ہو جائے وہ اُسے سمجھاتی ہوئی بولیں۔

لیکن آپی سب میں ہی کیوں سوچوں لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے، “اُن کے الفاظ کسی کو توڑ بھی سکتے ہیں اور جوڑ بھی سکتے ہیں”

 آمنہ، لوگ کہاں سوچ کر بولتے ہیں اگر یہ لوگ سوچ کر بولتے تو دُنیا اِتنی مشکل نہ ہوتی، اِس دنیا میں بسر کرنا اِتنا مشکل نہ ہوتا، سب سے بڑی چیز خاموشی ہے، “صبر” جب آپ خاموش رہتے صبر کرتے، تو سب کچھ آسان ہو جاتا اور پھر آپ کو عادت ہو جاتی، لوگ جو بھی کہتے رہیں آپ کو پھر تکلیف بھی نہیں ہوتی، اِسی لیے اپنی یہ خاموشی اپنائے رکھو ہر چیز سے محفوظ رہو گی۔ اُس کا کندھا سہلانے کے بعد ریحاب وہاں سے اُٹھ کر چلی گٸی۔

اور آمنہ نے پاس پڑی اپنی ڈائری اُٹھا لی اور اُس پہ کچھ لِکھنے لگی۔

” میری خاموشی کو میری کمزوری مت سمجھنا،

میری سب سے بڑی طاقت یہی کمزوری ہے

میری خاموشی کے پیچھے جو طوفان ہے اُس سے آپ واقف ہی کہاں۔

”میری خاموشی نے مجھے ہر بلا سے بچایا ہے

اور یہی خاموشی اب مجھے سب کچھ عطا کرے گی۔۔”

Student : Sameera Zahir

Class: XI MN

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *