شاید

شاید یہ وہی ملک ہے جس کا خواب اقبال  نے دیکھا تھا۔ آج سے کئ سال پہلے دو قومیں مسلم اور ہندو اس سر زمین پر رہا کرتی تھیں، ہاں مگر یہ کیسے ممکن ہے  خدا کا ماننے اور خدا کا انکار کرنے والا ایک ساتھ متحد ہو کر رہ سکیں۔

لیکن قائد اعظم نے خدا کی بنائی ہوئی اس خوبصورت کائنات میں سے ایک حَسین ٹکڑا منتخب کیا اور ایک قانون مقرر کیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا انسان اس زمین پر اپنے حقوق کے مطابق زندگی بسر کر سکتا ہے، اور آج مسلم ، ہندو، سکھ ، عیسائی ایک ساتھ جس سر زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں وہ پاکستان ہے۔

محمد علی جناح، علامہ اقبال، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، چودھری رحمت علی، مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی، حفیظ جالندھری اور سر سید احمد خان جیسی اور بھی نامور شخصیات ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطر عظیم سے عظیم تر کام انجام دینے ۔لیکن افسوس کہ آج کسی دوسرے مذہب کے حقائق کی بات تو دور انسان اپنی زندگی جینے کے حقائق کھو چکا ہے۔ آج مسلمان کسی دوسرے کا ہی نہیں بلکہ آج مسلمان ، مسلمان کا ہی دشمن بنا ہوا ہے۔ جو لوگ کئ سال پہلے ہجرت کر کے اپنی نسلوں کی خاطر یہاں آۓ آج اُنہی کی نسلیں غربت کے سبب حیوانوں سے بدتر زندگی گزار رہی ہیں۔

کسی کے پاس قرض ادا کرنے کی رقم نہیں تو کوئی راشن کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔ آج ملک کا حال یہ ہے کے جب قرض ملتا ہے تو ہمارے حکمران شرم سے ڈوبنے کے بجائے فخر سے اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔مختصر بات یہ ہے کہ اقبال نے جس ملک کا خواب دیکھا تھا یہ وہ ملک تو ہے لیکن وہ قوم نہیں اپنی تحریر کا اختتام ڈاکٹر عبد القدیر خان  کے ان جملوں پر کروں گا ۔  ’’اس قوم کی خاطر کام کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہے ‘‘۔

Student : ابریز حسن

الطاف آغا روم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *